غالبؔ کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

نویسندگان

  • فاروق بخشی۔ Author

کلمات کلیدی:

غالبؔ، ہستی، نیستی، وجودیت، تصوف، فلسفہ، اردو شاعری

چکیده

مرزا اسداللہ خاں غالبؔ اردو اور فارسی ادب کے وہ عظیم شاعر ہیں جن کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی کا سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ غالبؔ نے وجود اور عدم، ہونے اور نہ ہونے کے سوالات کو اپنی شاعری کا محور بنایا اور اردو غزل کو ایک نئی فکری بلندی عطا کی۔ یہ شوض مقالہ غالبؔ کی شاعری میں ہستی و نیستی کے فلسفے کا تجزیہ کرتا ہے، اس کے مآخذ تلاش کرتا ہے اور جدید فلسفیانہ روایات سے اس کا موازنہ پیش کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غالبؔ کا فلسفۂ ہستی نہ صرف اسلامی تصوف سے متاثر ہے بلکہ اس میں یونانی فلسفے اور مشرقی حکمت کے عناصر بھی شامل ہیں۔

بیوگرافی نویسنده

  • فاروق بخشی۔
    ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگ، بہار

چاپ شده

2026-06-24

شماره

نوع مقاله

Articles

##plugins.generic.nashrahShireenCitation.citeThis##

فاروق بخشی۔, ف. (2026). غالبؔ کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ. Nashrah-e-Shireen, 1(1), 5-9.
فاروق بخشی۔ فاروق بخشی۔. "غالبؔ کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ." Nashrah-e-Shireen, vol. 1, no. 1, 2026, pp. 5-9.
فاروق بخشی۔ فاروق بخشی۔. "غالبؔ کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ." Nashrah-e-Shireen 1, no. 1 (2026): 5-9.
فاروق بخشی۔, ف. 2026. غالبؔ کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ. Nashrah-e-Shireen, 1(1), pp.5-9.
فاروق بخشی۔ ف. غالبؔ کی شاعری میں فلسفۂ ہستی و نیستی: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ. Nashrah-e-Shireen. 2026;1(1):5-9.